Skip to main content

(خلافت امیر المومنین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ۔) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر و حضر کے ساتھی رھے۔  نبی کریم صلعم نے اپنے مرض وفات میں ابوبکر رض کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ابوبکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر کی حثیت رکھتے تھے اور یار غار بھی تھے۔ اور گھرے دوست بھی اور تمام لوگوں سے افضل تھے ۔ جس دن نبی پاک صلعم کا وصال ھوا اسی دن سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کے لئے بیعت لی گئی اور حضرت ابوبکر رض کو خلیفہ بنایا گیا۔ خلیفہ بنتے ھی اچھے اچھے کام کئے۔ بھت جلد یمامہ کو فتح کیا۔ عراق شام اور دیگر ملکوں میں اسلامی سلطنت قائم کی۔ ابو بکر بھت رحیم کریم نھایت سادہ۔ تھے۔جب آپ صلی اللہ کا وصال ھوا تو لوگوں میں ہنگامہ پرپا ھوا۔ عرب مرتد ھونے لگے منکرین زکواہ پیدا ھو گئے تو آپ نے تمام صحابہ اکرام رض کو جمع کر کے مشورہ کیا۔ کہ منکرین اور مرتدین سے جنگ کی جائے تو اکثر صحابہ اکرام رضون اللہ عنھم نے اس فیصلے کا خلاف کیا۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھا آپ ان لوگوں کے بارے میں قتال کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں جب کہ نبی کریم صلعم کی حدیث ھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ھے کہ میں ان لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ کلمہ توحید کا اقرار نہ کریں جو اس کا اقرار کرےگا تو اس کا خون اور مال میری طرف سے محفوظ ھو گیا۔ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کی قسم جو نماز اور زکواہ میں فرق کریں گے میں ان سے لڑونگا خدا کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگر کوئ بکری کا بچہ زکوات دیتا تھا اب اگر انکار کریگا تو اس کے ساتھ قتال کرونگا یہ سن کر عمر فاروق رض نے فرمایا اللہ نے ابوبکر کا سینہ کھول دیا ھے اب میں سمجھ گیا یہی حق ھے۔مورخین کی ایک جماعت نے کہا ھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسام بن زید رضی اللہ عنہ کی سربراھی میں ساتھ سو مسلح نو جوانوں کا ایک لشکرشام کی طرف روانہ فرمایا تھا جب یہ لشکر مقام ذی خشب کے مقام پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ھوا۔ تو تمام صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جمع ھوئے اور کھا کہ لشکر اسامہ کو واپس بلا لیجئے۔تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئ عبادت کے لائق نھیں اس لشکر کو نھیں بلاونگا کیونکہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روانہ فرمایا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

چاروں خلفاء کی مدت خلافت

ﻠﻔﺎﺀ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﺧﻼﻓﺖﭼﺎﺭﻭﮞ ﺧﻠﯿﻔﮧ : ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ﺍﻟﺠﻮﺍﺏ ﻭﺑﺎﻟﻠﮧ ﺍﻟﺘﻮﻓﯿﻖ : ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺣﺴﺐ ﺫﯾﻞ ﮨﮯ :ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۲ﺳﺎﻝ ۳ ﻣﺎﮦ ﺩﺱ ﺩﻥ‏( ۱۲ ؍ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ۱۱ ؍ﮨﺠﺮﯼ ﺗﺎ ۲۲؍ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻻﺧﺮﯼ ۱۳ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۱۰ ؍ﺳﺎﻝ ۶ ؍ﻣﺎﮦ ﭼﺎﺭ ﺩﻥ ‏( ۲۲ ؍ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻻﺧﺮﯼ ۱۳ ؍ﮨﺠﺮﯼ ﺗﺎ ۲۶ ؍ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۲۳ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۱۱ ؍ﺳﺎﻝ ۱۱ ؍ﻣﺎﮦ ۲۲ ؍ﺍﯾﺎﻡ ‏( ۳؍ ﻣﺤﺮﻡ ۲۴ ﮪ ﺗﺎ ۲۵؍ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۳۵ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۴ ؍ﺳﺎﻝ ﺁﭨﮫ ﻣﺎﮦ ۲۵ ؍ﺍﯾﺎﻡ ‏( ۲۶؍ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۳۵ ؍ﮨﺠﺮﯼ ﺗﺎ ۲۱ ؍ﺭﻣﻀﺎﻥ۴۰ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏

غزوہ بدر قرآن وحدیث کی روشنی میں

 ’’غزوۂ بدر‘‘ سلسلہ غزوات میں اسلام کا سب سے پہلا اور عظیم الشان معرکہ ہے۔ غزوئہ بدر میں حضور سید عالم ﷺ اپنے تین سو تیرہ (313) جاں نثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ آگے دو سیاہ رنگ کے اسلامی پرچم تھے، ان میں ایک حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ کے ہا تھ میں تھا۔ جب رزم گاہ ِبدر کے قریب پہنچے تو امام المجاہدین حضور سرور دو عالم ﷺ نے حضرت علیؓ کو منتخب جان بازوں کے ساتھ ’’غنیم‘‘ کی نقل و حرکت کا پتا چلانے کے لیے بھیجا، انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی۔ 17 رمضان المبارک، جمعتہ المبارک کے دن جنگ بدر کی ابتداء ہوئی۔ ’’بدر‘‘ ایک گائوں کا نام ہے، جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا۔ یہ مقام مدینہ طیبہ سے تقریباً اسی (80) میل کے فاصلے پر ہے، جہاں پانی کے چند کنویں تھے اور ملک شام سے آنے والے قافلے اسی مقام پر ٹھہرا کرتے تھے۔ حضور سید عالمؐ اور صحابہ کرامؓ نے جب ہجرتِ مدینہ فرمائی تو قریش نے ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ اسی اثناء میں یہ خبر بھی مکہ معظمہ میں پھیل گئی تھی کہ مسلمان قریش مکہ کے شام سے آنے ولے قافلے کو لوٹنے آ رہے ہیں اور ا...

امام حسین رض کا قاتل کون ؟ شمر یا کوئ اور؟

 قاتل کون تھا؟ امام حسین کو شمر ذی الجوشن نے شہید کیا۔ بعض اہل علم نے لکھا ھے کہ شمر نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر پر نیزہ مارا  اور سنان بن انس نے نیزہ مار کر گھوڑے سے گرایا۔اس کے بعد خولی بن یزیدالاصبحی نے آگے بڑھ کر سر تن سے جدا کرنا چاھا تو اس کا ھاتھ کانپنے لگے اسی دوران اس کا بھائ شبل بن یزید آگے برھا اور اس نے گردن الگ کر دی۔ اس لشکر کا سپہ سالار عبید اللہ بن زیاد بن ابیہ تھا۔اس کو یزید نے سپہ سالار بنایا تھا۔مورخین لکھتے ھین کہ عبید اللہ بن زیاد نے علی بن حسین اور ان خواتین کو جو حضرت اما حسین رض کے ساتھ تھیں ان کے ساتھ جھوٹا وعدہ کیا۔ اور وعدہ خلافی کی۔ اور ظلم و ستم کیا عورتوں کو قید کیا معصوم بچوں کو اس قدر قتل کیا کہ جس تذکرے سے رونگٹے کھڑے ھوتے ھیں اور دل گھبراتا ھے۔یزید بن معاویہ اس دوران دمشق میں تھا۔ یہ لوگ جب راستے سے جارھے تھے  راستے میں ایک عبادت گاہ میں قیلولہ کیا تو اچا نک دیواروں پریہ شعر  لکھا ھوا نظر آیا ۔ اترجو امت قتلت حسینا   شفاعت جدہ یوم الحساب ترجمہ  کیا تم ایسی امت کے متعلق  جس نے حسین کو قتل کیا  ان کے نانا ج...