سورۃ التغابن کی فضیت اور وظیفہ اور حضرت مفتی زرولی خان کا بتایا ہوا عمل
لاعلاج مرض میں شفا نصیب ہو جاتا ہے
کہتے ہیں ظالم بادشاہ ناکارہ بادشاہ وہ نرم ہو جاتا ہے مہربان ہو جاتا ہے پڑھنے کا
طریقہ یہ ہے کہ 41 مرتبہ پڑھی جائے بہتر ہوگا کہ ان ایام میں دو تین دن روزے رکھے
سب کے خیرات فقراء مساکین کو کرے 41 مرتبہ پڑھنے کے بعد پھر ایک مرتبہ روز پڑھی
جائے ۔پہلی کے وقت پڑھنا یاقوت مرجان ہے سونا ہے بادل فجر پڑھنا چاندی ہے اور دن
میں جس وقت بھی پڑھے پڑھ سکتے ہیں لیکن اوقات ابتدائیہ سنیں رہے امام کو چاہیے
کبھی کبھی فجر میں کبھی کبھی کسی نماز میں بھی تلاوت کرے تاکہ سب لوگ مستفید ہو
جائیں پختونوں کے ہاں یہ بیماروں کی صورت کہلاتی ہے ۔کوئی زیادہ بیمار ہو جائے
امام صاحب اعلان کر لیتے ہیں فلاں بیمار ہے اس کے گھر چل رہا ہے صبح فجر کے فورا
بعد ان کو اطلاع کر لیتے ہیں اور جگہ ٹھیک ہو جاتی ہے سب لوگ جا کے سورج تغابن 41
مرتبہ پڑھ کے دعا مانگ لیتے ہیں یقین کر لو ادمی ٹھیک ہو جاتا ہے جب سورہ تغابن
پڑھوایا تو پھر لوگ سیکھیں بہترین ناشتہ کرائے عمدہ دعوت کرائے طلباء و تو ان کی
جیب میں پانچ پانچ سو ہزار روپے ڈالے ہیں سب کے خیرات کی نیت سے ڈالیں اللہ کے
مہمانوں کی عزت ہونی چاہیے ہم تو قائل ہیں بڑی سختی سے بلکہ ہم نے تو یہ دیکھا کہ
جو لوگ ایسا نہیں کرتے ہیں ان پر الٹا اثر ہوتا ہے تباہ و برباد ہو جاتا ہے ۔کیونکہ
مسافر بے گھر بے در غریب اجز مسکین اس طلبہ ہے اور اپ کے گھر ائے اور وہاں سے خالی
پیٹ خالی ہوا ہے سوکھے وہ تو اللہ اپ کو چھوڑے گا یہ باتیں بڑی پختہ اور مشک کی ہے
اس کو یاد رکھو
شیخ الحدیث
حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خان رحمۃ اللہ کا عجیب واقعہ
میرا ایک مقدمہ ایک عدالت میں تھا اور میں بڑا
پریشان رہتا تھا اس سے وہ جج مجھے دیکھتے ہی ہول فول بکتا تھا ہر روز جب بھی پیش
ہو جاتا ایک دفعہ مجھے خواب میں کسی نے کہا کہ اپ سورہ تغابن پڑھ کے جائیں میں نے
رات کا 41 مرتبہ پڑھ کر سو گیا سحری میں اٹھا 41 مرتبہ پھر پڑھی سنتوں میں بھی
پڑھی اور فجر کی نماز کی پہلی رکعت میں بڑی تیسری میں سب کے حصہ کلام پڑھی عدالت
جاتے جاتے پہنچتے پہنچتے پھر میں نے جسم 41 41 ہم 12 پہ جوڑ دو خدا کی قسم لا الہ
الا اللہ محمد رسول اللہ جیسے میں پیش ہوا مجھے ایسے دیکھا تھا مولانا اج اپ کے حق
میں فیصلہ ہے اور اپ سے دو سال کی معافی مانگنی اور یہاں تک کہ فیصلہ لکھا سب کچھ
گیا ہو مجھے کہا اپ کو میں اپنی گاڑی میں گلشن چھوڑ کے اتا ہوں جج گیا اللہ اس
صورت میں اپ نے کیا کمالات رکھے ہیں اور ہم اس کے نادان اور بے خبر ہیں دنیا و دین
کی ہر مشکل کے لیے اپ اس کو پڑھا کریں پڑھتے پڑھتے اپ کا وظیفہ بن جائے گا پھر اس
کو اپ پڑھیں گے تو اسمان و زمین اپ کے کہنے سے ہی لے کے حرکت کریں گے یاد رکھنا
بھولنا نہیں
Comments
Post a Comment