Skip to main content

جمعرات کے دن کے اعمال (اسلامی رہنمائی) جمعرات کا دن اسلام میں فضیلت والا دن ہے، کیونکہ اس دن اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔ 🌙 جمعرات کے دن مسنون و مستحب اعمال 1️⃣ نفلی روزہ رکھنا نبی ﷺ اکثر پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے فرمایا: اعمال پیر اور جمعرات کو پیش کیے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں (ترمذی) 2️⃣ کثرت سے درودِ شریف پڑھنا خاص طور پر جمعرات کی شام اور جمعہ کی رات میں 3️⃣ استغفار اور توبہ دل سے معافی مانگنا، گناہوں سے رجوع کرنا 4️⃣ قرآنِ مجید کی تلاوت روزانہ کی تلاوت کے ساتھ کچھ وقت خاص کرنا 5️⃣ صدقہ و خیرات چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو 6️⃣ دعا کا اہتمام اپنی حاجات، رزق، صحت، مشکلات اور آخرت کی بھلائی کے لیے 7️⃣ صلہ رحمی رشتہ داروں سے رابطہ، معافی اور حسنِ سلوک (کیونکہ قطع رحمی اعمال کے قبول ہونے میں رکاوٹ بنتی ہے) 8️⃣ جمعہ کی تیاری غسل کا ارادہ، کپڑے صاف رکھنا، دل کو گناہوں سے پاک کرنا 📌 اہم بات جمعرات کے دن کوئی خاص وظیفہ یا مخصوص نماز شریعت سے ثابت نہیں، لیکن یہ دن نیکیوں کے لیے بہترین موقع ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں: جمعرات کے دن کی مسنون دعائیں روزے کی نیت

 جمعرات کے دن کے اعمال (اسلامی رہنمائی)

جمعرات کا دن اسلام میں فضیلت والا دن ہے، کیونکہ اس دن اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔

🌙 جمعرات کے دن مسنون و مستحب اعمال

1️⃣ نفلی روزہ رکھنا

  • نبی ﷺ اکثر پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے

  • فرمایا: اعمال پیر اور جمعرات کو پیش کیے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں
    (ترمذی)

2️⃣ کثرت سے درودِ شریف پڑھنا

  • خاص طور پر جمعرات کی شام اور جمعہ کی رات میں

3️⃣ استغفار اور توبہ

  • دل سے معافی مانگنا، گناہوں سے رجوع کرنا

4️⃣ قرآنِ مجید کی تلاوت

  • روزانہ کی تلاوت کے ساتھ کچھ وقت خاص کرنا

5️⃣ صدقہ و خیرات

  • چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو

6️⃣ دعا کا اہتمام

  • اپنی حاجات، رزق، صحت، مشکلات اور آخرت کی بھلائی کے لیے

7️⃣ صلہ رحمی

  • رشتہ داروں سے رابطہ، معافی اور حسنِ سلوک
    (کیونکہ قطع رحمی اعمال کے قبول ہونے میں رکاوٹ بنتی ہے)

8️⃣ جمعہ کی تیاری

  • غسل کا ارادہ، کپڑے صاف رکھنا، دل کو گناہوں سے پاک کرنا

📌 اہم بات

جمعرات کے دن کوئی خاص وظیفہ یا مخصوص نماز شریعت سے ثابت نہیں، لیکن یہ دن نیکیوں کے لیے بہترین موقع ہے۔

اگر آپ چاہیں تو میں:

  • جمعرات کے دن کی مسنون دعائیں

  • روزے کی نیت

Comments

Popular posts from this blog

چاروں خلفاء کی مدت خلافت

ﻠﻔﺎﺀ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﺧﻼﻓﺖﭼﺎﺭﻭﮞ ﺧﻠﯿﻔﮧ : ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ﺍﻟﺠﻮﺍﺏ ﻭﺑﺎﻟﻠﮧ ﺍﻟﺘﻮﻓﯿﻖ : ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺣﺴﺐ ﺫﯾﻞ ﮨﮯ :ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۲ﺳﺎﻝ ۳ ﻣﺎﮦ ﺩﺱ ﺩﻥ‏( ۱۲ ؍ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ۱۱ ؍ﮨﺠﺮﯼ ﺗﺎ ۲۲؍ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻻﺧﺮﯼ ۱۳ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۱۰ ؍ﺳﺎﻝ ۶ ؍ﻣﺎﮦ ﭼﺎﺭ ﺩﻥ ‏( ۲۲ ؍ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻻﺧﺮﯼ ۱۳ ؍ﮨﺠﺮﯼ ﺗﺎ ۲۶ ؍ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۲۳ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۱۱ ؍ﺳﺎﻝ ۱۱ ؍ﻣﺎﮦ ۲۲ ؍ﺍﯾﺎﻡ ‏( ۳؍ ﻣﺤﺮﻡ ۲۴ ﮪ ﺗﺎ ۲۵؍ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۳۵ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۴ ؍ﺳﺎﻝ ﺁﭨﮫ ﻣﺎﮦ ۲۵ ؍ﺍﯾﺎﻡ ‏( ۲۶؍ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۳۵ ؍ﮨﺠﺮﯼ ﺗﺎ ۲۱ ؍ﺭﻣﻀﺎﻥ۴۰ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏

غزوہ بدر قرآن وحدیث کی روشنی میں

 ’’غزوۂ بدر‘‘ سلسلہ غزوات میں اسلام کا سب سے پہلا اور عظیم الشان معرکہ ہے۔ غزوئہ بدر میں حضور سید عالم ﷺ اپنے تین سو تیرہ (313) جاں نثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ آگے دو سیاہ رنگ کے اسلامی پرچم تھے، ان میں ایک حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ کے ہا تھ میں تھا۔ جب رزم گاہ ِبدر کے قریب پہنچے تو امام المجاہدین حضور سرور دو عالم ﷺ نے حضرت علیؓ کو منتخب جان بازوں کے ساتھ ’’غنیم‘‘ کی نقل و حرکت کا پتا چلانے کے لیے بھیجا، انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی۔ 17 رمضان المبارک، جمعتہ المبارک کے دن جنگ بدر کی ابتداء ہوئی۔ ’’بدر‘‘ ایک گائوں کا نام ہے، جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا۔ یہ مقام مدینہ طیبہ سے تقریباً اسی (80) میل کے فاصلے پر ہے، جہاں پانی کے چند کنویں تھے اور ملک شام سے آنے والے قافلے اسی مقام پر ٹھہرا کرتے تھے۔ حضور سید عالمؐ اور صحابہ کرامؓ نے جب ہجرتِ مدینہ فرمائی تو قریش نے ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ اسی اثناء میں یہ خبر بھی مکہ معظمہ میں پھیل گئی تھی کہ مسلمان قریش مکہ کے شام سے آنے ولے قافلے کو لوٹنے آ رہے ہیں اور ا...

امام حسین رض کا قاتل کون ؟ شمر یا کوئ اور؟

 قاتل کون تھا؟ امام حسین کو شمر ذی الجوشن نے شہید کیا۔ بعض اہل علم نے لکھا ھے کہ شمر نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر پر نیزہ مارا  اور سنان بن انس نے نیزہ مار کر گھوڑے سے گرایا۔اس کے بعد خولی بن یزیدالاصبحی نے آگے بڑھ کر سر تن سے جدا کرنا چاھا تو اس کا ھاتھ کانپنے لگے اسی دوران اس کا بھائ شبل بن یزید آگے برھا اور اس نے گردن الگ کر دی۔ اس لشکر کا سپہ سالار عبید اللہ بن زیاد بن ابیہ تھا۔اس کو یزید نے سپہ سالار بنایا تھا۔مورخین لکھتے ھین کہ عبید اللہ بن زیاد نے علی بن حسین اور ان خواتین کو جو حضرت اما حسین رض کے ساتھ تھیں ان کے ساتھ جھوٹا وعدہ کیا۔ اور وعدہ خلافی کی۔ اور ظلم و ستم کیا عورتوں کو قید کیا معصوم بچوں کو اس قدر قتل کیا کہ جس تذکرے سے رونگٹے کھڑے ھوتے ھیں اور دل گھبراتا ھے۔یزید بن معاویہ اس دوران دمشق میں تھا۔ یہ لوگ جب راستے سے جارھے تھے  راستے میں ایک عبادت گاہ میں قیلولہ کیا تو اچا نک دیواروں پریہ شعر  لکھا ھوا نظر آیا ۔ اترجو امت قتلت حسینا   شفاعت جدہ یوم الحساب ترجمہ  کیا تم ایسی امت کے متعلق  جس نے حسین کو قتل کیا  ان کے نانا ج...