Skip to main content

فقہِ حنفی کے مطابق ارکانِ اسلام کی مکمل وضاحت

فقہِ حنفی کے مطابق ارکانِ اسلام کی مکمل وضاحت

 

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو منظم کرتا ہے۔ اسلام کی بنیاد چند ایسے بنیادی اعمال پر رکھی گئی ہے جنہیں ارکانِ اسلام کہا جاتا ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق ارکانِ اسلام پانچ ہیں، جو دراصل دینِ اسلام کی بنیاد اور ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ارکان پر عمل کیے بغیر ایک مسلمان کا دینی تشخص مکمل نہیں ہوتا۔

1۔ کلمۂ شہادت

فقہِ حنفی کے مطابق اسلام کا سب سے پہلا اور بنیادی رکن کلمۂ شہادت ہے۔ یعنی دل سے یہ یقین رکھنا اور زبان سے اقرار کرنا کہ
“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔”
یہ عقیدہ انسان کو دائرۂ اسلام میں داخل کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص ظاہری عبادات ادا کرے لیکن کلمۂ شہادت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو وہ مسلمان نہیں کہلائے گا۔ فقہِ حنفی میں ایمان کا تعلق تصدیقِ قلب اور اقرارِ لسان سے ہے۔

2نماز

نماز اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں: فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء۔ نماز بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتی ہے۔ فقہِ حنفی میں نماز کی شرائط، فرائض، واجبات اور سنن کی تفصیل موجود ہے۔ بلا عذر شرعی نماز چھوڑنا سخت گناہ ہے، اور نماز کا انکار کرنا کفر کے قریب لے جاتا ہے۔

3 زکوٰۃ

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے جو مالدار مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق جس شخص کے پاس نصاب کے برابر مال ہو اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ زکوٰۃ کا مقصد معاشرے میں مالی توازن قائم کرنا اور غریبوں کی مدد کرنا ہے۔ فقہِ حنفی میں سونا، چاندی، نقدی، تجارتی مال اور بعض دیگر اموال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔

4۔ روزہ

رمضان المبارک کے روزے اسلام کا چوتھا رکن ہیں۔ فقہِ حنفی کے مطابق ہر عاقل، بالغ اور صحت مند مسلمان پر رمضان کے روزے فرض ہیں۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ زبان، آنکھ اور دل کو بھی گناہوں سے بچانے کا نام ہے۔ فقہِ حنفی میں روزے کے فرائض، مکروہات اور فاسد کرنے والی چیزوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

5۔ حج

حج اسلام کا پانچواں اور آخری رکن ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق حج اس مسلمان پر فرض ہے جو صاحبِ استطاعت ہو، یعنی اس کے پاس سفر، قیام اور اہلِ خانہ کے اخراجات کے لیے کافی مال ہو۔ زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض ہے۔ حج مسلمانوں میں اتحاد، مساوات اور اخوت کا عملی مظاہرہ ہے۔

خلاصہ

فقہِ حنفی کے مطابق ارکانِ اسلام دین کی بنیاد ہیں۔ کلمہ ایمان کو مضبوط کرتا ہے، نماز روحانی تعلق قائم کرتی ہے، زکوٰۃ معاشرتی انصاف پیدا کرتی ہے، روزہ نفس کی تربیت کرتا ہے اور حج امتِ مسلمہ کو یکجا کرتا ہے۔ ان ارکان پر عمل پیرا ہو کر ہی ایک مسلمان اپنی دینی زندگی کو مکمل اور متوازن بنا سکتا ہے۔

      قرآن پاک سیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

https://youtu.be/rarF_BN5wuE

Comments

Popular posts from this blog

چاروں خلفاء کی مدت خلافت

ﻠﻔﺎﺀ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﺧﻼﻓﺖﭼﺎﺭﻭﮞ ﺧﻠﯿﻔﮧ : ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ﺍﻟﺠﻮﺍﺏ ﻭﺑﺎﻟﻠﮧ ﺍﻟﺘﻮﻓﯿﻖ : ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺣﺴﺐ ﺫﯾﻞ ﮨﮯ :ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۲ﺳﺎﻝ ۳ ﻣﺎﮦ ﺩﺱ ﺩﻥ‏( ۱۲ ؍ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ۱۱ ؍ﮨﺠﺮﯼ ﺗﺎ ۲۲؍ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻻﺧﺮﯼ ۱۳ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۱۰ ؍ﺳﺎﻝ ۶ ؍ﻣﺎﮦ ﭼﺎﺭ ﺩﻥ ‏( ۲۲ ؍ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻻﺧﺮﯼ ۱۳ ؍ﮨﺠﺮﯼ ﺗﺎ ۲۶ ؍ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۲۳ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۱۱ ؍ﺳﺎﻝ ۱۱ ؍ﻣﺎﮦ ۲۲ ؍ﺍﯾﺎﻡ ‏( ۳؍ ﻣﺤﺮﻡ ۲۴ ﮪ ﺗﺎ ۲۵؍ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۳۵ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ : ۴ ؍ﺳﺎﻝ ﺁﭨﮫ ﻣﺎﮦ ۲۵ ؍ﺍﯾﺎﻡ ‏( ۲۶؍ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۳۵ ؍ﮨﺠﺮﯼ ﺗﺎ ۲۱ ؍ﺭﻣﻀﺎﻥ۴۰ ؍ﮨﺠﺮﯼ ‏

غزوہ بدر قرآن وحدیث کی روشنی میں

 ’’غزوۂ بدر‘‘ سلسلہ غزوات میں اسلام کا سب سے پہلا اور عظیم الشان معرکہ ہے۔ غزوئہ بدر میں حضور سید عالم ﷺ اپنے تین سو تیرہ (313) جاں نثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ آگے دو سیاہ رنگ کے اسلامی پرچم تھے، ان میں ایک حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ کے ہا تھ میں تھا۔ جب رزم گاہ ِبدر کے قریب پہنچے تو امام المجاہدین حضور سرور دو عالم ﷺ نے حضرت علیؓ کو منتخب جان بازوں کے ساتھ ’’غنیم‘‘ کی نقل و حرکت کا پتا چلانے کے لیے بھیجا، انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی۔ 17 رمضان المبارک، جمعتہ المبارک کے دن جنگ بدر کی ابتداء ہوئی۔ ’’بدر‘‘ ایک گائوں کا نام ہے، جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا۔ یہ مقام مدینہ طیبہ سے تقریباً اسی (80) میل کے فاصلے پر ہے، جہاں پانی کے چند کنویں تھے اور ملک شام سے آنے والے قافلے اسی مقام پر ٹھہرا کرتے تھے۔ حضور سید عالمؐ اور صحابہ کرامؓ نے جب ہجرتِ مدینہ فرمائی تو قریش نے ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ اسی اثناء میں یہ خبر بھی مکہ معظمہ میں پھیل گئی تھی کہ مسلمان قریش مکہ کے شام سے آنے ولے قافلے کو لوٹنے آ رہے ہیں اور ا...

امام حسین رض کا قاتل کون ؟ شمر یا کوئ اور؟

 قاتل کون تھا؟ امام حسین کو شمر ذی الجوشن نے شہید کیا۔ بعض اہل علم نے لکھا ھے کہ شمر نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر پر نیزہ مارا  اور سنان بن انس نے نیزہ مار کر گھوڑے سے گرایا۔اس کے بعد خولی بن یزیدالاصبحی نے آگے بڑھ کر سر تن سے جدا کرنا چاھا تو اس کا ھاتھ کانپنے لگے اسی دوران اس کا بھائ شبل بن یزید آگے برھا اور اس نے گردن الگ کر دی۔ اس لشکر کا سپہ سالار عبید اللہ بن زیاد بن ابیہ تھا۔اس کو یزید نے سپہ سالار بنایا تھا۔مورخین لکھتے ھین کہ عبید اللہ بن زیاد نے علی بن حسین اور ان خواتین کو جو حضرت اما حسین رض کے ساتھ تھیں ان کے ساتھ جھوٹا وعدہ کیا۔ اور وعدہ خلافی کی۔ اور ظلم و ستم کیا عورتوں کو قید کیا معصوم بچوں کو اس قدر قتل کیا کہ جس تذکرے سے رونگٹے کھڑے ھوتے ھیں اور دل گھبراتا ھے۔یزید بن معاویہ اس دوران دمشق میں تھا۔ یہ لوگ جب راستے سے جارھے تھے  راستے میں ایک عبادت گاہ میں قیلولہ کیا تو اچا نک دیواروں پریہ شعر  لکھا ھوا نظر آیا ۔ اترجو امت قتلت حسینا   شفاعت جدہ یوم الحساب ترجمہ  کیا تم ایسی امت کے متعلق  جس نے حسین کو قتل کیا  ان کے نانا ج...